سنن ابو داؤد حدیث ۲۲۱۸ - طلاق کے فروعی احکام و مسائل
سنن ابو داؤد : ۲۲۱۸
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۲۱۸
قَرَأْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ وَزِيرٍ الْمِصْرِيِّ ، قُلْتُ لَهُ : حَدَّثَكُمْ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أَوْسٍ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَ عَطَاءٌ لَمْ يُدْرِكْ أَوْسًا ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَدِيمُ الْمَوْتِ . وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ ، وَإِنَّمَا رَوَوْهُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ أَوْسًا .
اوس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پندرہ صاع جو دی تاکہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطا نے اوس کو نہیں پایا ہے اور وہ بدری صحابی ہیں ان کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور لوگوں نے اسے اوزاعی سے اوزاعی نے عطاء سے روایت کیا اس میں «عن أوس» کے بجائے «أوسا» ہے۔
