سنن ابو داؤد حدیث ۲۴۷۳ - روزوں کے احکام و مسائل
سنن ابو داؤد : ۲۴۷۳
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۴۷۳
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : غَيْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، لَا يَقُولُ فِيهِ : قَالَتْ : السُّنَّةُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : جَعَلَهُ قَوْلَ عَائِشَةَ .
عائشہ روایت:
سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں «قالت السنة» کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے۔
