سنن ابو داؤد حدیث ۳۴۱۷ - اجارے کے احکام و مسائل

سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۴۱۷

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ عَمْرٌو ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ ، فَقُلْتُ : مَا تَرَى فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا أَوْ تَعَلَّقْتَهَا .

عبادہ بن صامت روایت:

´اس سند سے بھی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن اس سے پہلی والی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں یہ ہے کہ` میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک انگارا ہے جسے تم نے گلے کا طوق بنا لیا ہے یا اسے لٹکا لیا ہے“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں