سنن ابو داؤد حدیث ۳۸۰۴ - کھانے کے متعلق احکام و مسائل
سنن ابو داؤد : ۳۸۰۴
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۸۰۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ كَرِبَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا لَا يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَلَا الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ ، وَلَا اللُّقَطَةُ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ " .
مقدام بن معد یکرب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے“۔
