سنن ابو داؤد حدیث ۴۴۲۱ - حدود اور تعزیرات کا بیان
سنن ابو داؤد : ۴۴۲۱
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۴۴۲۱
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ زَنَى ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَسَأَلَ قَوْمَهُ : أَمَجْنُونٌ هُوَ ؟ قَالُوا : لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ، قَالَ : أَفَعَلْتَ بِهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَانْطُلِقَ بِهِ فَرُجِمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے زنا کر لیا ہے، آپ نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے کئی بار یہی بات دہرائی، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ پھیر لیتے تھے، پھر آپ نے ان کی قوم کے لوگوں سے پوچھا: ”کیا یہ دیوانہ تو نہیں؟“ لوگوں نے کہا: نہیں ایسی کوئی بات نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہاں واقعی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کئے جانے کا حکم دیا، تو انہیں لا کر سنگسار کر دیا گیا، اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔
