صحیح بخاری حدیث ۱۰۲۸ - استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان
صحیح بخاری : ۱۰۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۲۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يُصَلِّي ، وَأَنَّهُ لَمَّا دَعَا أَوْ أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هَذَا مَازِنِيٌّ ، وَالْأَوَّلُ كُوفِيٌّ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ .
عبداللہ بن زید انصاری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (استسقاء کے لیے) عیدگاہ کی طرف نکلے وہاں نماز پڑھنے کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرنے لگے یا راوی نے یہ کہا دعا کا ارادہ کیا تو قبلہ رو ہو کر چادر مبارک پلٹی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی عبداللہ بن زید مازنی ہیں اور اس سے پہلے باب «الدعا فی الاستسقاء» میں جن کا ذکر گزرا اور وہ عبداللہ بن یزید ہیں کوفہ کے رہنے والے۔
