صحیح بخاری حدیث ۱۰۶۰ - سورج گرہن کی نماز اور دعا
سورج گرہن کی نماز: گرہن کے وقت دعا اور نماز کی تعلیم
صحیح بخاری : ۱۰۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۶۰
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ : انْكَسَفَتِ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ " .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
جس دن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی سورج گرہن بھی اسی دن لگا۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ گرہن ابراہیم رضی اللہ عنہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے) کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشان ہیں۔ ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا۔ جب اسے دیکھو تو اللہ پاک سے دعا کرو اور نماز پڑھو تاآنکہ سورج صاف ہو جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سورج گرہن کی نماز اور گرہن کے وقت دعا کا صاف حکم بیان ہوا ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس دن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، اسی دن سورج گرہن لگا۔ لوگوں نے سمجھا کہ یہ گرہن ان کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال کو درست نہیں مانا اور فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ ان میں گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔ اس لیے جب سورج گرہن یا چاند گرہن دیکھا جائے تو اسے لوگوں کے واقعات سے جوڑنے کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کیا جائے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ گرہن کے وقت دعا کریں اور نماز پڑھیں، یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
- گرہن کو کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ قرار دینا درست نہیں۔
- گرہن دیکھنے پر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔
- گرہن ختم ہونے تک نماز پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
