صحیح بخاری حدیث ۱۰۹۳ - سواری پر نفل نماز پڑھنے کا حکم
سواری پر نفل نماز کی اجازت
صحیح بخاری : ۱۰۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۹۳
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ " .
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عامر نے اور ان سے ان کے باپ نے کہا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اونٹنی پر نماز پڑھتے رہتے خواہ اس کا منہ کسی طرف ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، چاہے اس کا رخ کسی بھی سمت ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفل نماز سفر میں سواری پر ادا کی جا سکتی ہے۔ اس میں قبلہ کی شرط سخت نہیں ہوتی کیونکہ یہ نفل عبادت ہے اور سفر میں سہولت دی گئی ہے۔ لیکن فرض نماز کے لیے یہ اجازت نہیں ہوتی۔ یہ حدیث دین میں آسانی اور عملی رہنمائی کو ظاہر کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفل نماز سواری پر جائز ہے
- فرض نماز کے لیے قبلہ شرط ہے
- سفر میں عبادت آسان کر دی گئی ہے
