صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۸ - تہجد کی نماز بیٹھ کر
تہجد میں بیٹھ کر قرأت اور قیام
صحیح بخاری : ۱۱۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۱۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، " أَنَّهَا لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى أَسَنَّ فَكَانَ يَقْرَأُ قَاعِدًا حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثِينَ آيَةً أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً ثُمَّ رَكَعَ " .
عائشہ روایت:
´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ` آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ جب آپ ضعیف ہو گئے تو قرآت قرآن نماز میں بیٹھ کر کرتے تھے، پھر جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو جاتے اور پھر تقریباً تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کبھی رات کی نماز بیٹھ کر ادا کی، اور جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو کر کچھ آیات پڑھتے پھر رکوع کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تہجد میں آپ صلى الله عليه وسلم مختلف حالتوں میں عبادت فرماتے تھے، خاص طور پر عمر کے آخر حصے میں۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت میں نرمی اور سہولت بھی شریعت کا حصہ ہے، خاص طور پر جب جسمانی حالت کمزور ہو جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تہجد میں بیٹھ کر نماز جائز ہے
- بڑھاپے میں عبادت میں آسانی دی گئی ہے
- قرأت اور قیام دونوں اہم ہیں
