صحیح بخاری حدیث ۱۱۶۱ - فجر کی سنت کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول

فجر کی سنت کی حدیث: سنت کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کا پیارا معمول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۶۱

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى سُنَّةَ الْفَجْرِ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي ، وَإِلَّا اضْطَجَعَ حَتَّى يُؤْذَنَ بِالصَّلَاةِ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں پڑھ چکتے تو اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے جب تک نماز کی اذان ہوتی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۱۶۱ کا خلاصہ

یہ فجر کی سنت کی حدیث بہت سادہ انداز میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ایک گھریلو معمول کو بیان کرتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم فجر کی دو سنتیں پڑھ لیتے، پھر اگر وہ جاگ رہی ہوتیں تو آپ صلى الله عليه وسلم ان سے باتیں کرتے۔ اگر وہ سو رہی ہوتیں تو آپ صلى الله عليه وسلم لیٹ جاتے، یہاں تک کہ نماز کے لیے اذان ہوتی۔ اس حدیث میں سنت فجر کے بعد کا عمل بتایا گیا ہے، نہ کہ کوئی لمبی گفتگو یا الگ حکم۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے ساتھ گھر والوں سے نرم برتاؤ بھی نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی کا حصہ تھا۔ فجر کی سنت کے بعد آرام کا ذکر بھی اسی حد تک ہے جو حدیث میں آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فجر کی سنتیں نبی صلى الله عليه وسلم کے معمول میں شامل تھیں۔
  • گھر والوں کے جاگنے کی حالت کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔
  • عبادت کے بعد نرم گفتگو بھی اچھے گھرانے کا حصہ ہے۔
  • فجر کی نماز تک مختصر آرام کا ذکر اس روایت میں موجود ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں