صحیح بخاری حدیث ۱۱۶۸ - فجر کی دو سنتوں کے بعد معمول
فجر کی دو سنتیں: نماز کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کا نرم گھریلو انداز
صحیح بخاری : ۱۱۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۶۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنِي ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي ، وَإِلَّا اضْطَجَعَ " ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ : فَإِنَّ بَعْضَهُمْ يَرْوِيهِ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، قَالَ سُفْيَانُ : هُوَ ذَاكَ .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعت (فجر کی سنت) پڑھ چکتے تو اس وقت اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے۔ میں نے سفیان سے کہا کہ بعض راوی فجر کی دو رکعتیں اسے بتاتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں یہ وہی ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۶۸ کا خلاصہ
یہ فجر کی دو سنتوں کی حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب دو رکعت پڑھ چکتے تو اگر وہ جاگ رہی ہوتیں تو آپ صلى الله عليه وسلم ان سے بات کرتے، ورنہ لیٹ جاتے۔ سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بعض راوی اسے فجر کی دو رکعتیں کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ہاں، یہی ہیں۔ اس روایت میں اصل توجہ سنت فجر کے بعد کے عمل پر ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل نہایت سادہ ہے: گھر والے جاگ رہے ہوں تو بات، ورنہ آرام۔ اس سے فجر کی سنت کے بعد مختصر لیٹنے کا ذکر ملتا ہے، لیکن حدیث اس سے زیادہ تفصیل نہیں دیتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دو رکعت سے مراد فجر کی سنتیں بیان کی گئی ہیں۔
- جاگنے کی حالت میں گھر والوں سے گفتگو کا ذکر ہے۔
- اگر عائشہ رضی اللہ عنہا سو رہی ہوتیں تو آپ صلى الله عليه وسلم لیٹ جاتے۔
- حدیث میں سنت کے بعد کا مختصر گھریلو معمول بتایا گیا ہے۔
