صحیح بخاری حدیث ۱۱۷۳ - فجر کے بعد دو ہلکی رکعتیں
فجر طلوع ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں: سنت فجر کا وقت
صحیح بخاری : ۱۱۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۷۳
وَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي حَفْصَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَعْدَ مَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَكَانَتْ سَاعَةً لاَ أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا. تَابَعَهُ كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَأَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي أَهْلِهِ.
حفصہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنت فجر) پڑھتے اور یہ ایسا وقت ہوتا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتی تھی۔ عبیداللہ کے ساتھ اس حدیث کو کثیر بن فرقد اور ایوب نے بھی نافع سے روایت کیا اور ابن ابی الزناد نے اس حدیث کو موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا۔ اس میں «في بيته» کے بدل «في أهله» ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۷۳ کا خلاصہ
یہ فجر کی سنت کے وقت کی حدیث حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بیان سے آتی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم فجر طلوع ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔ وہ یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ یہ ایسا وقت ہوتا تھا جب وہ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس نہیں جاتی تھیں۔ اس روایت میں دو باتیں اہم ہیں: فجر طلوع ہونے کے بعد دو رکعتیں، اور ان رکعتوں کا ہلکا ہونا۔ فجر کی سنت کی حدیث کے طور پر اس متن میں وقت اور انداز دونوں ملتے ہیں۔ روایت اس سے آگے کوئی اضافی تفصیل نہیں دیتی، اس لیے وضاحت بھی انہی الفاظ کے قریب رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر طلوع ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتوں کا ذکر ہے۔
- یہ روایت حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نقل ہوئی ہے۔
- اس وقت نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس جانے کا معمول نہیں تھا۔
- حدیث میں سنت فجر کے وقت اور مختصر انداز کا بیان ہے۔
