صحیح بخاری حدیث ۱۲۰ - علم کی حفاظت اور بیان کی حکمت
علم کے دو برتن اور بیان کی حکمت والی حدیث
صحیح بخاری : ۱۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۰
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (علم کے) دو برتن یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ «بلعوم» سے مراد وہ نرخرا ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم کے دو برتن یاد کیے۔ ایک کو میں نے پھیلا دیا، یعنی لوگوں کو بیان کر دیا۔ دوسرے کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں اسے پھیلا دوں تو میرا یہ حلق کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بلعوم کی وضاحت بھی کی کہ اس سے مراد وہ نرخرہ ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔ اس حدیث میں علم کے بیان اور حالات کی رعایت کا پہلو نظر آتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہر علم کو ایک ہی انداز میں عام نہیں کیا، بلکہ کچھ باتوں کے بیان سے نقصان کا اندیشہ بتایا۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ دینی علم امانت ہے، مگر اسے بیان کرنے میں حکمت بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت علم محفوظ کیا۔
- کچھ علم انہوں نے لوگوں میں بیان کیا اور کچھ بیان نہ کیا۔
- علم بیان کرنے میں موقع، حالات اور حکمت کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔
- دینی علم امانت ہے، اسے بے احتیاطی سے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
