صحیح بخاری حدیث ۱۵۴۳ - جمرہ عقبہ تک تلبیہ کا عمل
تلبیہ کب تک پڑھا جائے؟ جمرہ عقبہ تک کی روایت
صحیح بخاری : ۱۵۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۴۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ الْمزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى ، قَالَ : فَكِلَاهُمَا قَالَ : لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
ابن عباس روایت:
عرفات سے مزدلفہ تک اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر مزدلفہ سے منیٰ تک فضل بن عباس رضی اللہ عنہما پیچھے بیٹھ گئے تھے، دونوں حضرات نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر تلبیہ کہتے رہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حج کے سفر کا ایک اہم عمل بیان ہوا ہے، یعنی تلبیہ جاری رکھنا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق عرفات سے مزدلفہ تک اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے تھے، پھر مزدلفہ سے منیٰ تک فضل بن عباس رضی اللہ عنہما پیچھے بیٹھے۔ دونوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔ اس سے تلبیہ کب تک پڑھیں، لبیک اللہم لبیک، اور حج میں تلبیہ جیسے سوالوں کا عملی جواب ملتا ہے۔ حدیث میں خاص طور پر سفر کے مقامات اور آخر وقت کا ذکر ہے، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمی جمرہ عقبہ تک تلبیہ جاری رکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عرفات سے مزدلفہ اور پھر منیٰ کے سفر میں تلبیہ جاری رہا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یاد رکھا۔
