صحیح بخاری حدیث ۱۵۵۵ - موسیٰ علیہ السلام کا تلبیہ
موسیٰ علیہ السلام اور تلبیہ: روایت کا اصل پیغام
صحیح بخاری : ۱۵۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۵۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : " كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ ، أَنَّهُ قَالَ : مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ أَسْمَعْهُ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : أَمَّا مُوسَى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذْ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي " .
مجاہد روایت:
ہم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے تو یہ نہیں سنا۔ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ نالے میں اترے تو لبیک کہہ رہے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک اہم علمی احتیاط بھی ہے اور تلبیہ کا ذکر بھی۔ مجلس میں دجال کا ذکر ہوا اور لوگوں نے ایک بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے یہ نہیں سنا۔ پھر انہوں نے وہ بات بیان کی جو انہوں نے سنی تھی: گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ جب وہ نالے میں اترے تو لبیک کہہ رہے ہیں۔ اس روایت کا مرکزی موضوع تلبیہ انبیاء اور بات کو صحیح طور پر نقل کرنا ہے۔ یہاں ہمیں یہ نہیں کرنا چاہیے کہ دجال والی تفصیل کو پکا بیان بنا دیں، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود اسے اپنے سنے ہوئے میں شامل نہیں کیا۔ اصل سبق یہ ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت احتیاط ہو اور جو بات سنی ہو وہی کہی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وہی بات بیان کی جو انہوں نے سنی تھی۔
- روایت میں موسیٰ علیہ السلام کے تلبیہ کا ذکر آیا ہے۔
- حدیث نقل کرتے وقت احتیاط کا انداز اس روایت میں صاف دکھائی دیتا ہے۔
