صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۱ - فتح مکہ میں کداء سے داخلہ
فتح مکہ میں کداء سے داخلہ: مکہ کے راستوں کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۵۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۸۱
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ ، وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا كِلَيْهِمَا ، وَكَانَ أَكْثَرَ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ أَقْرَبِهِمَا إِلَى مَنْزِلِهِ " ، قَال أَبُو عَبْد اللَّهِ : كَدَاءٌ وَكُدًا مَوْضِعَانِ .
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ہشام نے اپنے باپ سے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر کداء سے داخل ہوئے تھے۔ عروہ خود اگرچہ دونوں طرف سے (کداء اور کدیٰ) داخل ہوتے لیکن اکثر آپ کدیٰ کی طرف سے داخل ہوتے تھے کیونکہ یہ راستہ ان کے گھر سے قریب تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ کداء اور کدیٰ دو مقامات کے نام ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مکہ میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم فتح مکہ کے سال کداء کے راستے سے داخل ہوئے۔ اسی لیے اس حدیث کو لوگ عموماً “فتح مکہ میں نبی صلى الله عليه وسلم کا داخلہ” یا “کداء اور کدیٰ کی حدیث” کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ حدیث میں عروہ رحمہ اللہ کے عمل کا بھی ذکر ہے کہ وہ دونوں طرف سے داخل ہوتے تھے، مگر زیادہ تر کدیٰ کی طرف سے آتے تھے کیونکہ وہ ان کے گھر کے قریب تھا۔ آخر میں امام بخاری رحمہ اللہ نے صاف کر دیا کہ کداء اور کدیٰ دو الگ مقامات کے نام ہیں۔ اس روایت میں کسی خاص فضیلت کا الگ حکم بیان نہیں ہوا، بلکہ ایک واقعہ اور جگہ کی شناخت نقل ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے سفر اور آمد کے مقامات کو صحابہ و تابعین نے یاد رکھا۔
- کداء اور کدیٰ دو الگ مقامات ہیں، اس لیے ناموں میں فرق سمجھنا چاہیے۔
- حدیث میں راستے کا ذکر واقعہ کے طور پر ہے، اسے متن سے بڑھا کر حکم نہ بنایا جائے۔
