صحیح بخاری حدیث ۱۶۸ - ہر اچھے کام میں دائیں طرف کی پسند
دائیں طرف سے کام شروع کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۸
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي تَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَطُهُورِهِ وَفِي شَأْنِهِ كُلِّهِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے، کنگھی کرنے، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں داہنی طرف سے کام کی ابتداء کرنے کو پسند فرمایا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۸ کا خلاصہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے، کنگھی کرنے، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں دائیں طرف سے آغاز کو پسند فرماتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع تیمن، یعنی دائیں طرف کو ترجیح دینا ہے۔ یہ روایت بہت عام فہم ہے اور روز مرہ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ جوتا پہننا ہو، بال سنوارنے ہوں یا وضو کرنا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف کو پسند کرتے تھے۔ دائیں طرف سے شروع کرنے کی حدیث، وضو کی سنت، اور روزمرہ سنتیں جیسے الفاظ اسی روایت سے جڑتے ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ چھوٹے کام بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق کیے جا سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف سے آغاز کو پسند فرماتے تھے۔
- وضو، جوتا پہننے اور کنگھی کرنے میں دائیں طرف کا ذکر آیا ہے۔
- روزمرہ کاموں میں بھی سنت کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔
