صحیح بخاری حدیث ۱۷۶۱ - حائضہ عورت کے لیے طواف وداع کی رخصت
طواف وداع کی رخصت: حائضہ عورت کے لیے آسانی
صحیح بخاری : ۱۷۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۶۱
قَالَ : وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ بَعْدُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ " .
ابن عمر روایت:
اس عورت کے لیے واپسی نہیں۔ اس کے بعد میں نے ان سے سنا آپ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع طواف وداع اور حائضہ عورت کی واپسی ہے۔ روایت میں پہلے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بات سنی گئی کہ ایسی عورت واپس نہ جائے۔ پھر بعد میں انہی سے سنا گیا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عورتوں کو اس معاملے میں اجازت دی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے مسائل میں اصل رہنمائی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے حکم سے لی جاتی ہے۔ یہاں بات خاص طور پر ان عورتوں کے لیے ہے جنہیں حیض آ جائے اور واپسی کا وقت ہو۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ شریعت میں حاجی کے لیے آسانی رکھی گئی ہے، خاص طور پر جب معاملہ ایسے عذر کا ہو جو انسان کے اختیار میں نہیں۔ اسی لیے طواف وداع کی حدیث، حائضہ عورت کا حکم، اور حج میں رخصت جیسے موضوعات اس روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کے مسائل میں آخری رہنمائی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی اجازت اور حکم سے لی جاتی ہے۔
- حیض ایسی حالت ہے جو عورت کے اختیار میں نہیں، اس لیے اس کے لیے رخصت کا ذکر آیا۔
- اگر کسی مسئلے میں پہلے ایک بات معلوم ہو اور پھر نبوی اجازت سامنے آ جائے تو اجازت پر عمل کیا جائے گا۔
- حج میں رخصت کا مقصد لوگوں پر غیر ضروری مشقت کم کرنا ہے۔
