صحیح بخاری حدیث ۱۷۷۱ - حیض کے بعد طواف زیارت کا حکم
حج میں حیض اور طواف زیارت کا آسان حکم
صحیح بخاری : ۱۷۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۷۱
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ ، فَقَالَتْ : مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَقْرَى حَلْقَى ، أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ قِيلَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَانْفِرِي " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ .
عائشہ روایت:
مکہ سے روانگی کی رات صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ تھیں، انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ان لوگوں کے روکنے کا باعث بن جاؤں گی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «عقرى حلقى» کیا تو نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ جی ہاں کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۷۱ کا خلاصہ
یہ حدیث حج کے ایک اہم مسئلے کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو مکہ سے روانگی کی رات حیض آ گیا۔ انہیں فکر ہوئی کہ شاید میری وجہ سے سب لوگ رک جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا انہوں نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ، یعنی طواف زیارت، کر لیا تھا؟ جب بتایا گیا کہ ہاں، انہوں نے یہ طواف کر لیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روانہ ہو جاؤ۔ اس سے صاف بات سمجھ آتی ہے کہ حج میں طواف زیارت بہت اہم ہے۔ اگر عورت طواف زیارت کر چکی ہو اور بعد میں حیض آ جائے تو اس حدیث کے مطابق اسے قافلے کو روکنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں اصل بات حج، حیض، طواف زیارت اور روانگی کے حکم سے متعلق ہے۔ حدیث میں صرف اسی صورت کا ذکر ہے کہ طواف زیارت پہلے ہو چکا تھا، پھر حیض آیا، اور پھر روانگی کی اجازت دی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج میں طواف زیارت مکمل ہو جانے کے بعد روانگی کی صورت بدل سکتی ہے۔
- حیض آ جانے پر عورت کو اپنی حالت کے بارے میں شرعی رہنمائی لینی چاہیے۔
- قافلے کو روکنے یا نہ روکنے کا فیصلہ عبادت کے مکمل ہونے کی حالت سے جڑا ہو سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے طواف زیارت کے بارے میں پوچھا، پھر روانگی کی اجازت دی۔
