صحیح بخاری حدیث ۱۷۷۸ - نبی صلى الله عليه وسلم کے چار عمرے اور ایک حج
نبی صلى الله عليه وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ چار عمرے اور ایک حج کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۷۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۷۸
حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " كَمْ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَرْبَعٌ عُمْرَةُ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ حَيْثُ صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ حَيْثُ صَالَحَهُمْ ، وَعُمْرَةُ الْجِعِرَّانَةِ إِذْ قَسَمَ غَنِيمَةَ أُرَاهُ حُنَيْنٍ ، قُلْتُ : كَمْ حَجَّ ؟ قَالَ : وَاحِدَةً " .
قتادہ روایت:
میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ چار، عمرہ حدیبیہ ذی قعدہ میں جہاں پر مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا تھا، پھر آئندہ سال ذی قعدہ ہی میں ایک عمرہ قضاء جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے صلح کی تھی اور تیسرا عمرہ جعرانہ جس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غالباً حنین کی غنیمت تقسیم کی تھی، چوتھا حج کے ساتھ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کتنے کئے؟ فرمایا کہ ایک۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمرے اور حج کی تعداد ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے چار عمرے کیے۔ ان میں عمرہ حدیبیہ تھا، جب مشرکین نے آپ صلى الله عليه وسلم کو روک دیا تھا۔ پھر اگلے سال ذی قعدہ میں عمرہ قضاء ہوا، جس کے بارے میں صلح ہوئی تھی۔ تیسرا عمرہ جعرانہ کا تھا، جب حنین کی غنیمت تقسیم کی گئی۔ چوتھا عمرہ حج کے ساتھ تھا۔ پھر جب پوچھا گیا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے کتنے حج کیے، تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک۔ اس روایت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمرے چار تھے اور حج ایک تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت کے مطابق نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے چار عمرے کیے۔
- حدیبیہ، عمرہ قضاء اور جعرانہ کے عمرے الگ الگ مواقع پر ہوئے۔
- حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کے حج کی تعداد ایک بیان کی گئی ہے۔
- دینی معلومات کے لیے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا جاتا تھا اور وہ واضح جواب دیتے تھے۔
