صحیح بخاری حدیث ۱۹۳ - مرد و عورت کا ایک برتن سے وضو
ایک برتن سے وضو: مرد و عورت کے وضو کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورت اور مرد سب ایک ساتھ (ایک ہی برتن سے) وضو کیا کرتے تھے۔ (یعنی وہ مرد اور عورتیں جو ایک دوسرے کے محرم ہوتے)۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک مختصر بات بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں سب ایک ساتھ وضو کیا کرتے تھے۔ اردو ترجمے میں یہ وضاحت بھی آئی ہے کہ اس سے مراد وہ مرد اور عورتیں ہیں جو ایک دوسرے کے محرم ہوتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع ایک برتن سے وضو اور گھر یا خاندان کے ماحول میں وضو کا مشترک استعمال ہے۔ اس میں نہ لمبی تفصیل ہے، نہ کوئی الگ واقعہ، بلکہ صرف ایک عملی حالت بیان کی گئی ہے۔ اس لیے اسے سادہ انداز میں سمجھنا چاہیے کہ پانی اور برتن کے استعمال میں اس طرح کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھا، جیسا کہ روایت نے بیان کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی برتن سے وضو کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پایا گیا۔
- ترجمے کے مطابق یہ معاملہ محرم مرد و عورتوں کے بارے میں سمجھا گیا ہے۔
- حدیث کو اس کے مختصر الفاظ کے مطابق ہی سمجھنا چاہیے۔
