صحیح بخاری حدیث ۱۹۸۸ - روزے کے مسائل کا بیان
صحیح بخاری : ۱۹۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۸۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، " أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هُوَ صَائِمٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِصَائِمٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَهُ " .
ام فضل بنت حارث روایت:
ان کے یہاں کچھ لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ روزہ سے نہیں ہیں۔ اس پر ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا (تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے) آپ اپنے اونٹ پر سوار تھے، آپ نے دودھ پی لیا۔
