صحیح بخاری حدیث ۲ - وحی نازل ہونے کی کیفیت
وحی نازل ہونے کی کیفیت: گھنٹی کی آواز اور فرشتے کی آمد
صحیح بخاری : ۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّي ، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا .
عائشہ روایت:
ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گذرتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس (فرشتے) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں۔عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں وحی نازل ہونے کی کیفیت بیان ہوئی ہے۔ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ کبھی وحی گھنٹی جیسی آواز کے ساتھ آتی ہے، اور یہ کیفیت آپ پر بہت سخت ہوتی ہے۔ جب یہ حالت ختم ہوتی تو وحی آپ کے دل میں محفوظ ہو چکی ہوتی۔ کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں آتا اور بات کرتا، پھر آپ اس کی بات یاد رکھ لیتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سرد دن کا واقعہ بتایا کہ وحی ختم ہوئی تو پیشانی پر پسینہ تھا۔ اس سے وحی کی سختی اور اس کی حفاظت دونوں معلوم ہوتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وحی نازل ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت سنجیدہ اور بھاری معاملہ تھا۔
- وحی کبھی گھنٹی جیسی آواز کے ساتھ آتی تھی۔
- فرشتہ کبھی انسان کی شکل میں آ کر کلام کرتا تھا۔
- وحی کے بعد نازل شدہ کلام آپ کے دل میں محفوظ رہتا تھا۔
