صحیح بخاری حدیث ۲۰۶ - پاک پاؤں کے ساتھ موزے پہننا

موزوں پر مسح کی شرط: پاکی کی حالت میں پہننا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ ، فَقَالَ : " دَعْهُمَا ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا " .

مغیرہ روایت:

میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو میں نے چاہا (کہ وضو کرتے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار ڈالوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں رہنے دو۔ چونکہ جب میں نے انہیں پہنا تھا تو میرے پاؤں پاک تھے۔ (یعنی میں وضو سے تھا) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۶ کا خلاصہ

یہ حدیث موزوں پر مسح کے بارے میں بہت واضح بات بتاتی ہے۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ سفر میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے۔ وضو کے وقت انہوں نے چاہا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے موزے اتار دیں، تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انہیں رہنے دو، کیونکہ میں نے انہیں پاکی کی حالت میں پہنا تھا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ان پر مسح کیا۔ اس حدیث میں موزوں پر مسح کے ساتھ ایک خاص بات بھی آتی ہے کہ موزے اس وقت پہنے گئے تھے جب پاؤں پاک تھے۔ اس سے حدیث کے الفاظ کے مطابق مسح کا پس منظر سمجھ آتا ہے۔ اس روایت میں سفر کا ذکر ہے، موزے اتارنے کی کوشش کا ذکر ہے، اور نبی صلى الله عليه وسلم کا جواب بھی صاف الفاظ میں موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے پاکی کی حالت میں پہنے ہوئے موزوں پر مسح کیا۔
  • صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں ادب کے ساتھ مدد کرتے تھے۔
  • دینی عمل میں نبی صلى الله عليه وسلم کی بتائی ہوئی وجہ کو سمجھنا چاہیے۔
  • مسح کے مسئلے میں حدیث کے الفاظ ایک واضح بنیاد دیتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں