صحیح بخاری حدیث ۲۲۴۴ - بیع سلم اور مقررہ پیمانہ

بیع سلم کا حکم: مقررہ پیمانہ، مقررہ مدت اور صاف سودا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۴۴

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ ، قَالَ : بَعَثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، وَأَبُو بُرْدَةَ ، إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَا : سَلْهُ ، هَلْ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِفُونَ فِي الْحِنْطَةِ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " كُنَّا نُسْلِفُ نَبِيطَ أَهْلِ الشَّأْمِ فِي الْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالزَّيْتِ ، فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " ، قُلْتُ : إِلَى مَنْ كَانَ أَصْلُهُ عِنْدَهُ ، قَالَ : مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ بَعَثَانِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِفُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ نَسْأَلْهُمْ أَلَهُمْ حَرْثٌ أَمْ لَا . حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍبِهَذَا ، وَقَالَ : فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، وَقَالَ وَالزَّيْتِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، وَقَالَ : فِي الْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالزَّبِيبِ .

محمد بن ابی مجالد روایت:

مجھے عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے یہاں بھیجا اور ہدایت کی کہ ان سے پوچھو کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے زمانے میں گیہوں کی بیع سلم کرتے تھے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم شام کے انباط (ایک کاشتکار قوم) کے ساتھ گیہوں، جوار، زیتون کی مقررہ وزن اور مقررہ مدت کے لیے سودا کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کیا صرف اسی شخص سے آپ لوگ یہ بیع کیا کرتے تھے جس کے پاس اصل مال موجود ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اس کے متعلق پوچھتے ہی نہیں تھے۔اس کے بعد ان دونوں حضرات نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے خدمت میں بھیجا۔ میں نے ان سے بھی پوچھا۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے عہد مبارک میں بیع سلم کیا کرتے تھے اور ہم یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ ان کے کھیتی بھی ہے یا نہیں۔ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے محمد بن ابی مجالد نے یہی حدیث۔ اس روایت میں یہ بیان کیا کہ ہم ان سے گیہوں اور جَو میں بیع سلم کیا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن ولید نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے شیبانی نے بیان کیا، اس میں انہوں نے زیتون کا بھی نام لیا ہے۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے جریر نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، اور اس میں بیان کیا کہ گیہوں، جَو اور منقی میں (بیع سلم کیا کرتے تھے)۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲۴۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں بیع سلم کے بارے میں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے۔ صحابہ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گیہوں کی بیع سلم ہوتی تھی؟ جواب میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ شام کے انباط کے ساتھ گیہوں، جَو اور زیتون کا سودا مقررہ پیمانے اور مقررہ مدت کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ جب پوچھا گیا کہ کیا ان لوگوں کے پاس اصل مال موجود ہوتا تھا، تو فرمایا کہ ہم اس کے بارے میں پوچھتے نہیں تھے۔ روایت میں عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی بات آئی۔ اس سے اصل نکتہ یہی نکلتا ہے کہ بیع سلم میں مقدار اور مدت واضح ہوں۔ متن میں کھیتی کی موجودگی کو شرط بنا کر بیان نہیں کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیع سلم میں پیمانہ اور مدت کا واضح ہونا اصل بات ہے۔
  • حدیث میں گیہوں، جَو اور زیتون کا ذکر آیا ہے۔
  • صحابہ کھیتی کی موجودگی کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے۔
  • معاملات میں صاف شرطیں جھگڑے کو کم کرتی ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں