صحیح بخاری حدیث ۲۲۴۷ - پھل کی بیع
کھجور کی بیع سلم: پھل کے قابل استعمال ہونے کی شرط
صحیح بخاری : ۲۲۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۴۷
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : نُهِيَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَصْلُحَ ، وَعَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ نَسَاءً بِنَاجِزٍ ، وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ ، أَوْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ " .
ابوالبختری روایت:
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور میں جب کہ وہ درخت پر لگی ہوئی ہو بیع سلم کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ جب تک وہ کسی قابل نہ ہو جائے اس کی بیع سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح چاندی کو ادھار، نقد کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کی درخت پر بیع سلم کے متعلق پوچھا تو آپ نے بھی یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کھجور کی بیع سے منع فرمایا تھا جب تک وہ کھائی نہ جا سکے یا (یہ فرمایا کہ) جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے کہ اسے کوئی کھا سکے اور جب تک وہ تولنے کے قابل نہ ہو جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۴۷ کا خلاصہ
اس روایت میں کھجور کے درخت پر لگے پھل کے بارے میں سوال کیا گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ جب تک پھل کسی قابل نہ ہو جائے، اس کی بیع سے منع فرمایا گیا ہے۔ اسی روایت میں چاندی کو ادھار نقد کے بدلے بیچنے کی ممانعت بھی آئی ہے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا، جب تک وہ کھائی نہ جا سکے اور تولنے کے قابل نہ ہو جائے۔ اس حدیث کا انداز بہت عملی ہے۔ خریدار اور بیچنے والے دونوں کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز کا سودا ہو رہا ہے، اس کی حالت، فائدہ اور مقدار قابل فہم ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پھل کی بیع میں قابل استعمال ہونا اہم شرط ہے۔
- حدیث میں کھانے اور تولنے کے قابل ہونے کا ذکر آیا ہے۔
- چاندی کے ادھار نقد معاملے سے بھی منع کیا گیا۔
- سودا ایسی حالت میں ہو جسے فریقین سمجھ سکیں۔
