صحیح بخاری حدیث ۲۲۹۳ - عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع کا بھائی چارہ
مواخات کی حدیث: عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع کا بھائی چارہ
صحیح بخاری : ۲۲۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۹۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ " .
انس روایت:
جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں آئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کرایا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۹۳ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اسلامی بھائی چارے کا خوبصورت پہلو بیان کرتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کرایا۔ اس حدیث میں نہ کوئی لمبی گفتگو ہے، نہ کوئی اضافی تفصیل، مگر اصل بات واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجر اور انصاری کے درمیان تعلق قائم کیا۔ مواخات کی حدیث، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع، اور مہاجر انصار بھائی چارہ جیسے الفاظ اسی روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس روایت سے یہ بات نکلتی ہے کہ اسلامی معاشرے میں نئے آنے والوں کو تنہا چھوڑنا نہیں چاہیے، بلکہ ان کے ساتھ رشتہ، مدد اور تعلق بنایا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجر اور انصاری کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔
- نئے آنے والے مسلمان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔
- اسلامی بھائی چارہ عملی تعلق کا نام ہے۔
- حدیث میں عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہما کا ذکر ہے۔
