صحیح بخاری حدیث ۲۴۲۶ - لقطہ کا اعلان اور امانت
لقطہ کی حدیث: ملی ہوئی چیز کا اعلان کیسے کیا جائے؟
صحیح بخاری : ۲۴۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۲۶
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ ، قَالَ : " لَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَخَذْتُ صُرَّةً مِائَةَ دِينَارٍ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : احْفَظْ وِعَاءَهَا وَعَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " ، فَاسْتَمْتَعْتُ ، فَلَقِيتُهُ بَعْدُ بِمَكَّةَ ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ ، أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا .
سوید بن غفلہ روایت:
میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے سو دینار کی ایک تھیلی (کہیں راستے میں پڑی ہوئی) پائی۔ میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ۔ میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا، لیکن مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو اسے پہچان سکتا۔ اس لیے میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ۔ میں نے پھر (سال بھر) اعلان کیا۔ لیکن ان کا مالک مجھے نہیں ملا۔تیسری مرتبہ حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس تھیلی کی بناوٹ، دینار کی تعداد اور تھیلی کے بندھن کو محفوظ رکھ۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو (علامت پوچھ کے) اسے واپس کر دینا، ورنہ اپنے خرچ میں اسے استعمال کر لے چنانچہ میں اسے اپنے اخراجات میں لایا۔شعبہ نے بیان کیا کہ) پھر میں نے سلمہ سے اس کے بعد مکہ میں ملاقات کی تو انہوں کہا کہ مجھے یاد نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حدیث میں) تین سال تک (اعلان کرنے کے لیے فرمایا تھا) یا صرف ایک سال کے لیے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۲۶ کا خلاصہ
یہ حدیث لقطہ یعنی راستے میں پڑی ہوئی چیز کے بارے میں ہے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو سو دینار کی تھیلی ملی۔ وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ انہوں نے اعلان کیا مگر مالک نہ ملا۔ دوبارہ بھی یہی حکم ہوا۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تھیلی کی بناوٹ، دینار کی تعداد اور بندھن کو محفوظ رکھو۔ اگر مالک آ جائے تو اسے واپس کر دو، ورنہ اسے استعمال کر سکتے ہو۔ روایت کے آخر میں راوی کو ایک سال یا تین سال کے بارے میں شک بھی نقل ہوا ہے، اس لیے بیان کرتے وقت اس احتیاط کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ملی ہوئی قیمتی چیز فوراً اپنی نہیں بن جاتی۔
- اس کا اعلان کیا جائے تاکہ مالک تک بات پہنچ سکے۔
- نشانیاں محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ اصل مالک پہچانا جا سکے۔
- مالک بعد میں آئے تو چیز واپس کرنے کی بات روایت میں موجود ہے۔
