صحیح بخاری حدیث ۲۴۳۶ - لقطہ واپس کرنے کا حکم

لقطہ واپس کرنا: مالک آ جائے تو امانت لوٹا دو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۳۶

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ اللُّقَطَةِ ؟ قَالَ : عَرِّفْهَا سَنَةً ، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : خُذْهَا ، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا لَكَ وَلَهَا ، مَعَهَا حِذَاؤُهَا ، وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " .

زید بن خالد جہنی روایت:

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ۔ پھر اس کے بندھن اور برتن کی بناوٹ کو ذہن میں یاد رکھ۔ اور اسے اپنی ضروریات میں خرچ کر۔ اس کا مالک اگر اس کے بعد آئے تو اسے واپس کر دے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! راستہ بھولی ہوئی بکری کا کیا کیا جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو، کیونکہ وہ یا تمہاری ہو گی یا تمہارے بھائی کی ہو گی یا پھر بھیڑیئے کی ہو گی۔ صحابہ نے پوچھا، یا رسول اللہ! راستہ بھولے ہوئے اونٹ کا کیا کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر غصہ ہو گئے اور چہرہ مبارک سرخ ہو گیا (یا راوی نے «وجنتاه» کے بجائے) «احمر وجهه» کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ خود اس کے کھر اور اس کا مشکیزہ ہے۔ اسی طرح اسے اس کا اصل مالک مل جائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں لقطہ کا حکم صاف بیان ہوا ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پھر اس کے بندھن اور برتن کی بناوٹ کو یاد رکھو، اور اسے اپنی ضرورت میں خرچ کر سکتے ہو۔ لیکن اگر اس کا مالک بعد میں آ جائے تو اسے واپس کر دو۔ پھر صحابہ نے گمشدہ بکری کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ اسے پکڑ لو، کیونکہ وہ تمہاری ہو گی یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیے کی۔ جب گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ کھر اور پانی کا سامان ہے یہاں تک کہ مالک اسے پا لے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لقطہ کا اعلان ایک سال تک کیا جائے۔
  • مالک آ جائے تو چیز اس کو واپس کی جائے۔
  • بکری کو پکڑنے کی اجازت دی گئی۔
  • اونٹ کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا کیونکہ وہ خود سنبھل سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں