صحیح بخاری حدیث ۲۴۶۷ - فتنوں کی حدیث
فتنوں کی حدیث: آزمائشیں گھروں تک پہنچ سکتی ہیں
صحیح بخاری : ۲۴۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۶۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى ؟ إِنِّي أَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ " .
اسامہ بن زید روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک بلند مکان پر چڑھے۔ پھر فرمایا، کیا تم لوگ بھی دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں کہ (عنقریب) تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے جیسے بارش برستی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع فتنے ہیں۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مدینہ کے ایک بلند مکان پر چڑھے اور فرمایا کہ کیا تم وہ دیکھتے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے گھروں کے درمیان فتنوں کے مقامات اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں۔ فتنوں کی حدیث انسان کو سنجیدہ کرتی ہے کہ آزمائشیں صرف دور کے میدانوں میں نہیں رہتیں، گھر اور معاشرے کے اندر بھی آ سکتی ہیں۔ اس روایت میں تفصیل نہیں دی گئی کہ وہ فتنے کون سے ہوں گے، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے جو حدیث میں آئی ہے: نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے آنے والی آزمائشوں کی کثرت اور قرب کی خبر دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنے معاشرے اور گھروں تک پہنچ سکتے ہیں۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے آنے والی آزمائشوں کی خبر دی۔
- حدیث میں فتنوں کی تفصیل نہیں، اس لیے بے بنیاد دعوے نہیں کرنے چاہییں۔
- آدمی کو دینی سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ رہنا چاہیے۔
