صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۰ - جابر کے اونٹ کا واقعہ
جابر کے اونٹ کی حدیث: لین دین میں کرم اور حسن سلوک
صحیح بخاری : ۲۴۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۷۰
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، فَدَخَلْتُ إِلَيْهِ وَعَقَلْتُ الْجَمَلَ فِي نَاحِيَةِ الْبَلَاطِ ، فَقُلْتُ : هَذَا جَمَلُكَ ، فَخَرَجَ ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْجَمَلِ ، قَالَ : الثَّمَنُ وَالْجَمَلُ لَكَ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ اس لیے میں بھی مسجد کے اندر چلا گیا۔ البتہ اونٹ بلاط کے ایک کنارے پر باندھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کا اونٹ حاضر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اونٹ کے چاروں طرف ٹہلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ قیمت بھی لے اور اونٹ بھی لے جا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع خرید و فروخت میں کرم ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مسجد میں تھے، وہ بھی مسجد میں داخل ہوئے اور اونٹ کو باہر بلاط کے ایک کنارے باندھ دیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، آپ کا اونٹ حاضر ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم باہر تشریف لائے، اونٹ کے ارد گرد چلے، پھر فرمایا کہ قیمت بھی لے لو اور اونٹ بھی تمہارا ہے۔ جابر کے اونٹ کی حدیث میں بہت سادہ مگر خوبصورت سبق ہے کہ لین دین صرف سخت حساب کتاب کا نام نہیں۔ جب انسان کے پاس اختیار ہو تو وہ دوسرے کے ساتھ آسانی، نرمی اور فضل کا معاملہ بھی کر سکتا ہے۔ اس روایت میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا حسن سلوک اور سخاوت صاف دکھائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لین دین میں اچھا برتاؤ کیا جا سکتا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے قیمت بھی دی اور اونٹ بھی واپس کر دیا۔
- معاملات میں نرمی دلوں کو قریب کرتی ہے۔
- مسجد کے آداب کا خیال رکھتے ہوئے جانور باہر باندھا گیا۔
