صحیح بخاری حدیث ۲۵۱۶ - جھوٹی قسم سے مال ہڑپنے کی سخت وعید
جھوٹی قسم کی حدیث: مال ہڑپنے پر سخت وعید
صحیح بخاری : ۲۵۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۱۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا فَقَرَأَ إِلَى عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77 ، ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : فَحَدَّثْنَاهُ ، قَالَ : فَقَالَ : صَدَقَ لَفِيَّ ، وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا إِلَى وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77 " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
جو شخص جان بوجھ کر اس نیت سے جھوٹی قسم کھائے کہ اس طرح دوسرے کے مال پر اپنی ملکیت جمائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔ اس ارشاد کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے (سورۃ آل عمران میں) یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی پونجی خریدتے ہیں“ آخر آیت تک انہوں نے تلاوت کی۔ابووائل نے کہا اس کے بعد اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہمارے گھر تشریف لائے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن (ابومسعود رضی اللہ عنہ) نے تم سے کون سی حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے حدیث بالا ان کے سامنے پیش کر دی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ بیان کیا ہے۔ میرا ایک (یہودی) شخص سے کنویں کے معاملے میں جھگڑا ہوا تھا۔ ہم اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ دوسرے فریق سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا پھر یہ تو قسم کھا لے گا اور (جھوٹ بولنے پر) اسے کچھ پرواہ نہ ہو گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جان بوجھ کر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر نہایت غضبناک ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی۔ اس کے بعد انہوں نے وہی آیت پڑھی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی پونجی خریدتے ہیں“۔ آیت «ولهم عذاب أليم» تک۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جھوٹی قسم اور کسی دوسرے کے مال پر ناحق دعویٰ کرنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص جان بوجھ کر اس نیت سے جھوٹی قسم کھائے کہ دوسرے کے مال پر اپنا حق جتائے، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔ اسی بات کی تائید میں سورۃ آل عمران کی آیت کا ذکر کیا گیا، جس میں اللہ کے عہد اور قسموں کے بدلے دنیا کی تھوڑی چیز لینے والوں کے لیے سخت انجام بیان ہوا ہے۔ حدیث میں اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی آیا ہے، جہاں کنویں کے جھگڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعویٰ کرنے والا گواہ لائے، ورنہ دوسرے فریق سے قسم لی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کے جھگڑوں میں گواہی، قسم، سچائی اور دیانت بہت اہم ہیں۔ جھوٹی قسم کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کا تھوڑا فائدہ اللہ کی ناراضی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کے مال پر ناحق قبضہ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھانا سخت گناہ ہے۔
- مالی جھگڑوں میں گواہی اور قسم کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
- دنیا کے تھوڑے فائدے کے لیے اللہ کے عہد اور قسم کو استعمال کرنا بہت خطرناک عمل ہے۔
- دعویٰ کرنے والے سے گواہ طلب کیے جا سکتے ہیں، اور گواہ نہ ہوں تو دوسرے فریق سے قسم لی جا سکتی ہے۔
