صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۵ - پینے میں دائیں طرف کی ترتیب
پینے کے آداب: دائیں طرف والے کو پہلے دینے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۶۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۰۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ ، فَقَالَ الْغُلَامُ : لَا ، وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا فَتَلَّهُ فِي يَدِهِ " .
سہل بن سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ پینے کو لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک بچہ تھا اور قوم کے بڑے لوگ بائیں طرف تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے فرمایا کہ کیا تمہاری طرف سے اس کی اجازت ہے کہ میں بچا ہوا پانی ان بزرگوں کو دے دوں؟ تو اس بچے نے کہا کہ نہیں قسم اللہ کی! میں آپ سے ملنے والے اپنے حصہ کا ہرگز ایثار نہیں کر سکتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب ان کی طرف جھٹکے کے ساتھ بڑھا دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں پینے کی سنت اور دائیں طرف والے کے حق کا بہت صاف سبق ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس مشروب لایا گیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے دائیں طرف ایک بچہ تھا اور بائیں طرف قوم کے بڑے لوگ بیٹھے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بچے سے اجازت مانگی کہ کیا وہ اجازت دیتا ہے کہ مشروب بزرگوں کو دے دیا جائے۔ بچے نے قسم کے ساتھ کہا کہ وہ نبی صلى الله عليه وسلم سے ملنے والے اپنے حصے میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے مشروب اسی کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ مجلس میں ترتیب، حق اور اجازت کا خیال رکھنا چاہیے، چاہے حق رکھنے والا عمر میں چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دائیں طرف والے کو پہلے دینا پینے کے آداب میں شامل ہے۔
- چھوٹے آدمی کا حق بھی اجازت کے بغیر نہیں لیا جاتا۔
- مجلس میں بڑے احترام کے قابل ہیں، مگر مقرر حق بھی اہم ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم سے نسبت والی چیز کو بہت قیمتی سمجھتے تھے۔
