صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۰ - مسجد میں قرض کا جھگڑا اور صلح
مسجد میں قرض کے جھگڑے کی حدیث: آدھا چھوڑو اور باقی ادا کرو
صحیح بخاری : ۲۷۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۱۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتٍ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ ، فَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقَالَ : يَا كَعْبُ ، فَقَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ ، فَقَالَ كَعْبٌ : قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُمْ فَاقْضِهِ " .
کعب بن مالک روایت:
انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنا قرض طلب کیا، جو ان کے ذمہ تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا واقعہ ہے۔ مسجد کے اندر ان دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ اٹھا کر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اے کعب! انہوں نے کہا یا رسول اللہ، میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا معاف کر دے۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کر دیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے) فرمایا کہ اب اٹھو اور قرض ادا کر دو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنا قرض طلب کیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد کے اندر پیش آیا۔ دونوں کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے میں سن لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، پردہ اٹھایا اور کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ آدھا قرض چھوڑ دو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے فوراً عرض کیا کہ میں نے ایسا کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے فرمایا کہ اٹھو اور قرض ادا کرو۔ مسجد میں قرض کے جھگڑے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ صلح میں کمی بھی ہو سکتی ہے، مگر جو باقی حق ہو اسے ادا کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض کے جھگڑے کو بڑھانے کے بجائے صلح کی طرف آنا چاہیے۔
- حق والا شخص چاہے تو کچھ حصہ چھوڑ سکتا ہے۔
- جو قرض باقی رہے، اسے ادا کرنا لازم رہتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر صحابہ فوراً عمل کرتے تھے۔
