صحیح بخاری حدیث ۲۷۸۵ - جہاد کے برابر عمل کون سا ہے؟

جہاد کے برابر عمل کی حدیث اور مجاہد کا اجر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۸۵

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو حَصِينٍ أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ ، قَالَ : لَا أَجِدُهُ ، قَالَ : هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ ، وَلَا تَفْتُرَ ، وَتَصُومَ ، وَلَا تُفْطِرَ ، قَالَ : وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ ، فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ " .

ابوہریرہ روایت:

ایک صاحب (نام نامعلوم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد (جہاد کے لیے) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور (نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور کوئی دن بغیر روزے کے نہ گزرے۔ان صاحب نے عرض کیا بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا زمین (پر پاؤں) مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۷۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے ایسا عمل بتا دیں جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا عمل نہیں پاتا۔ پھر آپ نے ایک مثال دی کہ جب مجاہد نکلے تو کیا تم مسجد میں لگاتار نماز پڑھ سکتے ہو، سستی نہ آئے، اور مسلسل روزے رکھ سکتے ہو، افطار نہ کرو؟ اس شخص نے کہا کہ ایسا کون کر سکتا ہے۔ اس سے جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے، مگر بات اسی حد تک رکھی گئی ہے جو حدیث میں ہے۔ آخر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ مجاہد کے گھوڑے کی حرکت پر بھی نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ یہ حدیث مجاہد کا اجر، جہاد کی فضیلت، نماز روزہ اور اللہ کی راہ میں محنت کے موضوع سے جڑی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جہاد کے برابر عمل پوچھنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی فضیلت بتائی۔
  • مسلسل نماز اور روزے کی مثال سے جہاد کی مشقت سمجھائی گئی۔
  • حدیث میں مجاہد کے گھوڑے کی حرکت پر بھی نیکیاں لکھی جانے کا ذکر ہے۔
  • نیکی کے کاموں کی قدر اللہ کے ہاں بہت وسیع ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں