صحیح بخاری حدیث ۲۸۰۳ - اللہ کے راستے کے زخم کی فضیلت

اللہ کے راستے میں زخم کی حدیث اور شہادت کی فضیلت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۰۳

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۸۰۳ کا خلاصہ

یہ حدیث اللہ کے راستے میں قربانی کی بڑی قدر بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوتا ہے، اللہ خوب جانتا ہے کہ واقعی کون اس کے راستے میں زخمی ہوا ہے۔ قیامت کے دن وہ شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہتا ہوگا۔ رنگ خون جیسا ہوگا، مگر خوشبو مشک جیسی ہوگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل بات صرف ظاہری زخم نہیں، بلکہ اللہ کے راستے میں ہونا ہے۔ شہادت کی فضیلت، جہاد فی سبیل اللہ، اور اللہ کی راہ میں قربانی جیسے الفاظ اسی حدیث کے مرکزی پیغام کو سمجھاتے ہیں۔ بندہ لوگوں کو دھوکا دے سکتا ہے، مگر اللہ دل اور عمل کی حقیقت جانتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ خوب جانتا ہے کہ کون واقعی اس کے راستے میں زخمی ہوا ہے۔
  • اللہ کی راہ میں لگنے والا زخم قیامت کے دن خاص نشان کے ساتھ ظاہر ہوگا۔
  • ظاہری عمل کے ساتھ نیت اور مقصد بھی بہت اہم ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں