صحیح بخاری حدیث ۲۸۱۷ - شہید کی دوبارہ شہادت کی تمنا
شہید کی تمنا: دنیا میں لوٹ کر دس بار شہید ہونا
صحیح بخاری : ۲۸۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۱۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، وَلَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، فَيُقْتَلَ : عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے ‘ خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو (اللہ کے راستے میں) کیونکہ وہ شہادت کی عزت وہاں دیکھتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۱۷ کا خلاصہ
یہ حدیث شہادت کی فضیلت کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جنت میں داخل ہو جائے گا، وہ دنیا میں واپس آنا پسند نہیں کرے گا، چاہے اسے زمین کی ساری چیزیں مل جائیں۔ لیکن شہید اس سے الگ ہے۔ وہ چاہے گا کہ دنیا میں واپس آئے اور اللہ کے راستے میں دس مرتبہ قتل ہو، کیونکہ وہ وہاں شہادت کی عزت دیکھتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع شہید کی فضیلت، جنت، کرامت، اور اللہ کی راہ میں جان دینا ہے۔ متن میں شہید کی تمنا اس عزت کی وجہ سے بیان ہوئی ہے جو وہ جنت میں دیکھے گا۔ اس لیے بات کو اسی معنی تک رکھنا بہتر ہے، بغیر اضافی دعووں کے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت کی نعمتیں دنیا کی چیزوں سے کہیں بہتر ہیں۔
- شہید جنت میں شہادت کی عزت دیکھ کر دوبارہ شہادت کی تمنا کرے گا۔
- حدیث میں شہادت کی خاص کرامت کا ذکر ہے۔
