صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۵ - فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں

فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں: جہاد، نیت اور اطاعت کا پیغام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۲۵

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَوْمَ الْفَتْحِ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا مکہ فتح ہونے کے بعد (اب مکہ سے مدینہ کے لیے) ہجرت باقی نہیں ہے ‘ لیکن خلوص نیت کے ساتھ جہاد اب بھی باقی ہے اس لیے تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع ہجرت، جہاد اور نیت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ فتح کے بعد ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور نیت باقی ہیں، اور جب تمہیں نکلنے کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہو۔ اس روایت میں خاص طور پر فتح مکہ کے بعد مکہ سے مدینہ ہجرت کا حکم ختم ہونے کی بات ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ خلوص نیت کے ساتھ اللہ کے راستے میں جدوجہد باقی ہے۔ یہاں نیت کا ذکر بہت اہم ہے، کیونکہ عمل صرف ظاہری حرکت نہیں بلکہ دل کے ارادے سے بھی جڑا ہے۔ حدیث یہ بھی سکھاتی ہے کہ جب دینی ضرورت کے لیے پکار ہو تو مسلمان کو سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فتح مکہ کے بعد مکہ سے مدینہ کی ہجرت باقی نہیں رہی۔
  • جہاد کے ساتھ نیت کا ذکر اس عمل کی سنجیدگی بتاتا ہے۔
  • جب نکلنے کا حکم یا بلایا جائے تو جواب دینا چاہیے۔
  • عمل میں خلوص نیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں