صحیح بخاری حدیث ۲۸۴۶ - زبیر رضی اللہ عنہ نبی کے حواری
زبیر رضی اللہ عنہ کی حدیث: ہر نبی کا حواری اور سچا مددگار
صحیح بخاری : ۲۸۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۴۶
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ ، قَالَ : الزُّبَيْرُ أَنَا ثُمَّ ، قَالَ : مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، قَالَ : الزُّبَيْرُ أَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن فرمایا دشمن کے لشکر کی خبر میرے پاس کون لا سکتا ہے؟ (دشمن سے مراد یہاں بنو قریظہ تھے) زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پھر پوچھا دشمن کے لشکر کی خبریں کون لا سکے گا؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری (سچے مددگار) ہوتے ہیں اور میرے حواری (زبیر) ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نصرت دین ہے۔ جنگ خندق کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ دشمن کے لشکر کی خبر میرے پاس کون لا سکتا ہے؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا کہ میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، تو انہوں نے پھر خود کو پیش کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ہیں۔ حواری سے مراد سچا مددگار ہے۔ اس حدیث میں زبیر رضی اللہ عنہ کی ہمت، خدمت کے لیے تیار رہنا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر لبیک کہنا صاف نظر آتا ہے۔ یہ حدیث سچے مددگار، بہادری اور دینی خدمت کی اہمیت بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کے کام میں ہمت کے ساتھ آگے بڑھنا پسندیدہ عمل ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کی مدد کو خاص اعزاز دیا۔
- مشکل وقت میں خبر لانا بھی ایک اہم ذمہ داری ہو سکتی ہے۔
- سچا مددگار وہ ہے جو ضرورت کے وقت تیار ہو۔
