صحیح بخاری حدیث ۲۹۹۶ - بیماری یا سفر میں معمول کے عمل کا ثواب
بیماری یا سفر میں نیک عمل کا ثواب
صحیح بخاری : ۲۹۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۹۶
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ وَاصْطَحَبَ هُوَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ فِي سَفَرٍ ، فَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ لَهُ : أَبُو بُرْدَةَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى مِرَارًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا " .
ابراہیم ابواسماعیل سکسکی روایت:
میں نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے سنا، وہ اور یزید بن ابی کبشہ ایک سفر میں ساتھ تھے اور یزید سفر کی حالت میں بھی روزہ رکھا کرتے تھے۔ ابوبردہ نے کہا کہ میں نے (اپنے والد) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بارہا سنا۔ و وہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۹۶ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت تسلی دینے والی ہے، مگر اس کا مطلب اسی حد میں سمجھنا چاہیے جو الفاظ میں آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ویسا ہی عمل لکھا جاتا ہے جیسا وہ تندرستی اور اقامت کی حالت میں کیا کرتا تھا۔ یعنی جو نیک عمل انسان معمول میں کرتا تھا، بیماری یا سفر کی وجہ سے وہ نہ کر پائے تو اس کے لیے اس معمول کے مطابق ثواب لکھا جاتا ہے۔ اس حدیث میں بیماری میں ثواب، سفر میں ثواب، نیک عمل کا اجر، معمول کی عبادت، اور مقیم و صحیح حالت کے عمل جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری یا سفر کی وجہ سے معمول کا عمل چھوٹ جائے تو حدیث میں اس کے ثواب کا ذکر ہے۔
- تندرستی اور فراغت میں نیک اعمال کی عادت بنانا فائدہ مند ہے۔
- اللہ بندے کے معمول اور حالت دونوں کو جانتا ہے۔
