صحیح بخاری حدیث ۳۰۷۶ - توحید اور بت شکنی
ذی الخلصہ کی حدیث: توحید، ثابت قدمی اور نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا
صحیح بخاری : ۳۰۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۷۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : قَالَ لِي : جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِيهِ خَثْعَمُ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا فَأَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ ، فَقَالَ : رَسُولُ جَرِيرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ ، فَبَارَكَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ ، قَالَ مُسَدَّدٌ : بَيْتٌ فِي خَثْعَمَ " .
جریر بن عبداللہ بجلی روایت:
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ذی الخلصہ (یمن کے کعبے) کو تباہ کر کے مجھے کیوں خوش نہیں کرتے۔“ یہ ذی الخلصہ (یمن کے قبیلہ) خثعم کا بت کدہ تھا (کعبے کے مقابل بنایا تھا) جسے کعبۃ الیمانیہ کہتے تھے۔ چنانچہ میں (اپنے قبیلہ) احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو لے کر تیار ہو گیا۔ یہ سب اچھے شہسوار تھے۔پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں گھوڑے پر اچھی طرح سے جم نہیں پاتا تو آپ نے میرے سینے پر (دست مبارک) مارا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کا نشان اپنے سینے پر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ دعا دی «اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا ". فانطلق إليها فكسرها وحرقها» ”اے اللہ! اسے گھوڑے پر جما دے اور اسے صحیح راستہ دکھانے والا بنا دے اور خود اسے بھی راہ پایا ہوا کر دے۔“پھر جریر رضی اللہ عنہ مہم پر روانہ ہوئے اور ذی الخلصہ کو توڑ کر جلا دیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خوشخبری بھجوائی جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد (حسین بن ربیعہ) نے (خدمت نبوی میں) حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا جب تک وہ بت کدہ جل کر ایسا (سیاہ) نہیں ہو گیا جیسا خارش والا بیمار اونٹ سیاہ ہوا کرتا ہے۔یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور ان کے پیدل جوانوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی مسدد نے اس حدیث میں یوں کہا ذی الخلصہ خثعم قبیلے میں ایک گھر تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۷۶ کا خلاصہ
یہ ذی الخلصہ کی حدیث توحید کے باب سے جڑی ہوئی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ذی الخلصہ سے مجھے راحت کیوں نہیں دیتے۔ وہ خثعم کا ایک بت کدہ تھا جسے کعبۃ الیمانیہ کہا جاتا تھا۔ جریر رضی اللہ عنہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں گھوڑے پر اچھی طرح جم نہیں پاتا، تو نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے جما دے، اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔ پھر جریر رضی اللہ عنہ نے جا کر اسے توڑا اور جلایا، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے احمس کے سواروں اور پیدل جوانوں کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توحید کے مقابل بت پرستی کو باقی نہیں رکھا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے جریر رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت قدمی کی دعا فرمائی۔
- کام سے پہلے اپنی کمزوری بتانا اور دعا لینا اچھا عمل ہے۔
- خوش خبری لانے پر نبی صلى الله عليه وسلم نے اہل مہم کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔
