صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۷ - ہجر کے مجوس سے جزیہ
ہجر کے مجوس سے جزیہ: گواہی سے حکم واضح ہونا
صحیح بخاری : ۳۱۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۵۷
حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ " .
لیکن جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے پارسیوں سے جزیہ لیا تھا (تو وہ بھی لینے لگے تھے)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے بیان کی تکمیل کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوس سے جزیہ لیا تھا، تو مجوس کے جزیہ کا معاملہ واضح ہوا۔ حدیث بہت مختصر ہے، اس لیے اس سے لمبی بحث نکالنے کے بجائے اصل بات پر رہنا بہتر ہے۔ یہاں ایک صحابی کی گواہی کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نقل ہوا۔ جزیہ کی حدیث میں یہ نکتہ اہم ہے کہ فیصلے علم اور ثابت شدہ خبر پر قائم ہوتے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے مجوس سے جزیہ نہیں لیا تھا، پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی گواہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو سامنے کر دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی گواہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل معلوم ہوا۔
- ہجر کے مجوس سے جزیہ لیے جانے کا ذکر اسی روایت میں آیا ہے۔
- دینی فیصلے ثابت شدہ خبر اور معتبر گواہی پر قائم ہوتے ہیں۔
- مختصر روایت میں جزیہ کے باب کا ایک واضح حوالہ موجود ہے۔
