صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۱ - ام ہانی کی پناہ اور چاشت کی نماز

ام ہانی کی پناہ اور چاشت کی نماز کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۷۱

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ : ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ، قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ : وَذَلِكَ ضُحًى " .

ام ہانی بنت ابی طالب روایت:

فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی (مکہ میں) میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی صاحبزادی پردہ کئے ہوئے تھیں۔ میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کون صاحبہ ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آؤ اچھی آئیں، ام ہانی! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک کپڑا جسم اطہر پر لپیٹے ہوئے تھے۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری ماں کے بیٹے علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک شخص کو جسے میں پناہ دے چکی ہوں، قتل کئے بغیر نہیں رہیں گے۔ یہ شخص ہبیرہ کا فلاں لڑکا (جعدہ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی، اسے ہماری طرف سے بھی پناہ ہے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ وقت چاشت کا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع پناہ دینا اور چاشت کی نماز ہے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ آپ غسل فرما رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا پردہ کیے ہوئے تھیں۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے سلام کیا تو آپ نے محبت سے انہیں خوش آمدید کہا۔ غسل کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا لپیٹ کر آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ پھر ام ہانی رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ علی رضی اللہ عنہ ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہیں جسے میں پناہ دے چکی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام ہانی، جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی۔ اس حدیث میں عورت کی دی ہوئی امان کی قبولیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی سامنے آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ام ہانی رضی اللہ عنہا کی دی ہوئی پناہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا۔
  • فتح مکہ کے دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا اہتمام کیا۔
  • سلام کا جواب اور آنے والے کا خیر مقدم اچھا اخلاق ہے۔
  • امان کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں