صحیح بخاری حدیث ۳۲۴۱ - جنت اور دوزخ کے مشاہدے

جنت میں غریبوں اور دوزخ میں عورتوں کی کثرت والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۴۱

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " .

عمران بن حصین روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو جنتیوں میں زیادتی غریبوں کی نظر آئی اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو دوزخیوں میں کثرت عورتوں کی نظر آئی۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۲۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں رہنے والوں میں زیادہ تعداد غریبوں کی نظر آئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو وہاں زیادہ تعداد عورتوں کی نظر آئی۔ اس حدیث کا موضوع آخرت، جنت، دوزخ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشاہدہ ہے۔ متن میں صرف تعداد کی کثرت کا ذکر ہے، کسی فرد پر حکم نہیں لگایا گیا۔ اس لیے اس حدیث کو ڈر، نصیحت، اور اپنے عمل کی فکر کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ وضاحت میں کوئی ایسی وجہ شامل نہیں کی گئی جو اس روایت کے الفاظ میں موجود نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور دوزخ کا مشاہدہ بیان فرمایا۔
  • جنت میں غریبوں کی کثرت کا ذکر آیا ہے۔
  • دوزخ میں عورتوں کی کثرت کا ذکر آیا ہے، مگر کسی خاص فرد کا حکم نہیں دیا گیا۔
  • حدیث انسان کو آخرت کی فکر اور عمل کے جائزے کی طرف بلاتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں