صحیح بخاری حدیث ۳۲۸۶ - پیدائش کے وقت شیطان کا کچوکا

پیدائش کے وقت شیطان کا کچوکا اور عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۸۶

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعُنُ الشَّيْطَانُ فِي جَنْبَيْهِ بِإِصْبَعِهِ حِينَ يُولَدُ غَيْرَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعُنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شیطان ہر انسان کی پیدائش کے وقت اپنی انگلی سے اس کے پہلو میں کچوکے لگاتا ہے سوائے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے جب انہیں وہ کچوکے لگانے گیا تو پردے پر لگا آیا تھا (جس کے اندر بچہ رہتا ہے۔ اس کی رسائی وہاں تک نہ ہو سکی، اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی اس حرکت سے محفوظ رکھا)۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۲۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع پیدائش کے وقت شیطان کا کچوکا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر انسان کی پیدائش کے وقت شیطان اپنی انگلی سے اس کے پہلو میں کچوکا لگاتا ہے، سوائے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے۔ جب شیطان انہیں کچوکا لگانے گیا تو پردے پر لگا آیا۔ حدیث کے الفاظ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اس خاص معاملے میں شیطان کی پہنچ سے محفوظ رکھا۔ اس حدیث میں ہمیں اللہ کی قدرت اور اس کی خاص حفاظت کا ذکر ملتا ہے۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ صاف بات ہے کہ عام انسان کی پیدائش کے وقت شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے، مگر عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے اس سے بچایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ جسے چاہے خاص حفاظت عطا فرماتا ہے۔
  • عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی فضیلت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
  • شیطان انسان کے آغاز ہی سے دشمنی رکھتا ہے۔
  • بندے کو ہر حال میں اللہ کی پناہ کی ضرورت ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں