صحیح بخاری حدیث ۳۳۱۵ - احرام میں پانچ جانور مارنے کی اجازت
احرام میں پانچ موذی جانور مارنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۱۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں اگر کوئی شخص حالت احرام میں بھی مار ڈالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بچھو، چوہا، کاٹ لینے والا کتا، کوا اور چیل۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں بھی مار دے تو اس پر گناہ نہیں۔ حدیث میں بچھو، چوہا، کاٹ لینے والا کتا، کوا اور چیل کا ذکر ہے۔ یہ روایت احرام کے موضوع سے جڑی ہوئی ہے، کیونکہ احرام میں کئی پابندیاں ہوتی ہیں، مگر یہاں ان پانچ موذی جانوروں کے بارے میں خاص اجازت بیان کی گئی۔ احرام میں جانور مارنا، پانچ موذی جانور، بچھو مارنے کی حدیث، اور حرم کے جانور کا حکم جیسے الفاظ اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ متن میں ان جانوروں کے بارے میں گناہ نہ ہونے کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام میں بھی ان پانچ جانوروں کو مارنے پر گناہ نہیں بتایا گیا۔
- بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا، کوا اور چیل حدیث میں نام سے آئے ہیں۔
- خاص اجازت کو متن کے مطابق ہی سمجھنا چاہیے۔
- موذی جانور سے بچاؤ کے لیے شریعت میں آسانی موجود ہے۔
