صحیح بخاری حدیث ۳۳۱۹ - ایک چیونٹی کے بدلے پورا چھتہ نہ جلاؤ
چیونٹی کے چھتے والی حدیث: سزا میں حد سے نہ بڑھنا
صحیح بخاری : ۳۳۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۱۹
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِبَيْتِهَا فَأُحْرِقَ بِالنَّارِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گروہ انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے سائے میں اترے، وہاں انہیں کسی ایک چیونٹی نے کاٹ لیا۔ تو انہوں نے حکم دیا، ان کا سارا سامان درخت کے تلے سے اٹھا لیا گیا۔ پھر چیونٹیوں کا سارا چھتہ جلوا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی بھیجی کہ تم کو تو ایک ہی چیونٹی نے کاٹا تھا، فقط اسی کو جلانا تھا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نبی کا واقعہ بیان فرمایا۔ وہ ایک درخت کے نیچے اترے تو ایک چیونٹی نے انہیں کاٹ لیا۔ انہوں نے اپنا سامان وہاں سے ہٹانے کا حکم دیا، پھر چیونٹیوں کا پورا گھر جلوا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ تمہیں تو ایک ہی چیونٹی نے کاٹا تھا۔ حدیث کے الفاظ سے یہ سبق ملتا ہے کہ نقصان ایک سے ہو تو پوری جماعت کو سزا دینا درست طریقہ نہیں۔ چیونٹی کی حدیث، جانوروں پر رحم، اور حد سے نہ بڑھنے کی حدیث جیسے الفاظ اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ اس میں عدل، احتیاط، اور مخلوق کے ساتھ بے جا سختی سے بچنے کی تعلیم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک کے جرم پر سب کو سزا دینا درست نہیں۔
- جانوروں کے معاملے میں بھی حد سے بڑھنے سے بچنا چاہیے۔
- غصے میں کیا گیا عمل بعد میں غلط ثابت ہو سکتا ہے۔
- اللہ تعالیٰ نے ایک چیونٹی کے معاملے پر بھی تنبیہ فرمائی۔
