صحیح بخاری حدیث ۳۳۴۶ - یاجوج ماجوج اور فساد کی کثرت

یاجوج ماجوج کی حدیث: جب فساد بڑھ جائے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۴۶

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا ، يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا ، قَالَتْ : زَيْنَبُ ابْنَةَ جَحْشٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ، قَالَ : نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " .

زینب بنت جحش روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ گھبرائے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، ملک عرب میں اس برائی کی وجہ سے بربادی آ جائے گی جس کے دن قریب آنے کو ہیں، آج یاجوج ماجوج نے دیوار میں اتنا سوراخ کر دیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے اور اس کے قریب کی انگلی سے حلقہ بنا کر بتلایا۔ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس کے باوجود ہلاک کر دئیے جائیں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب فسق و فجور بڑھ جائے گا (تو یقیناً بربادی ہو گی)۔

صحیح بخاری حدیث ۳۳۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع یاجوج ماجوج اور فساد کی کثرت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، عرب کے لیے قریب آنے والی برائی سے خرابی ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ کھل گیا ہے، اور اپنی انگلیوں سے حلقہ بنا کر مقدار سمجھائی۔ زینب رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا ہم میں نیک لوگ موجود ہوں پھر بھی ہلاکت ہو سکتی ہے؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا، ہاں، جب خبث یعنی برائی بڑھ جائے۔ اس حدیث میں یاجوج ماجوج، آخری زمانے کی نشانیاں، اور معاشرے میں فساد کے اثرات کا ذکر ہے۔ یہ روایت ہمیں اپنی اصلاح کے ساتھ اجتماعی برائی سے بچنے کی فکر بھی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یاجوج ماجوج کا معاملہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک بڑا معاملہ ہے۔
  • نیک لوگوں کی موجودگی کے باوجود جب برائی بہت بڑھ جائے تو خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
  • مسلمان کو صرف اپنی ذات نہیں بلکہ معاشرے کی حالت کی بھی فکر کرنی چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے آنے والی برائی سے امت کو خبردار فرمایا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں