صحیح بخاری حدیث ۳۳۶۱ - شفاعت اور قیامت کا میدان
قیامت کا میدان اور شفاعت والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۶۱
بَاب حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِلَحْمٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَجْمَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيُنْفِذُهُمُ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْهُمْ فَذَكَرَ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنَ الْأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَيَقُولُ : فَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى ، تَابَعَهُ أَنَسٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو ایک ہموار اور وسیع میدان میں جمع کرے گا، اس طرح کہ پکارنے والا سب کو اپنی بات سنا سکے گا اور دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا (کیونکہ یہ میدان ہموار ہو گا، زمین کی طرح گول نہ ہو گا) اور لوگوں سے سورج بالکل قریب ہو جائے گا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفاعت کا ذکر کیا کہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ آپ روئے زمین پر اللہ کے نبی اور خلیل ہیں۔ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور میں شفاعت کیجئے، پھر انہیں اپنے جھوٹ (توریہ) یاد آ جائیں گے اور کہیں گے کہ آج تو مجھے اپنی ہی فکر ہے۔ تم لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع شفاعت اور قیامت کا میدان ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس گوشت پیش کیا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے قیامت کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو ایک ہموار میدان میں جمع کرے گا۔ پکارنے والا سب کو سنائے گا اور دیکھنے والا سب کو دیکھ سکے گا۔ سورج لوگوں کے قریب ہو جائے گا۔ پھر شفاعت کا ذکر آیا کہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی اور خلیل ہیں، ہمارے لیے اپنے رب کے حضور شفاعت کیجیے۔ ابراہیم علیہ السلام اپنی باتیں یاد کریں گے اور فرمائیں گے کہ آج مجھے اپنی فکر ہے، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ اس حدیث میں قیامت کی سختی، انبیاء کا مقام، اور شفاعت کے سلسلے کا ایک حصہ بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن تمام اگلے پچھلے لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے۔
- لوگ سختی میں انبیاء علیہم السلام کے پاس شفاعت کی درخواست لے کر جائیں گے۔
- ابراہیم علیہ السلام اللہ کے نبی اور خلیل ہیں۔
- قیامت کی سختی انسان کو آخرت کی تیاری یاد دلاتی ہے۔
