صحیح بخاری حدیث ۳۴۲۱ - سورۃ ص میں سجدہ اور انبیاء کی پیروی

سورۃ ص کا سجدہ: انبیاء کی پیروی کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۲۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَوَّامَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ أَسْجُدُ فِي ص فَقَرَأَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ حَتَّى أَتَى فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 84 - 90 فَقَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ .

مجاہد روایت:

میں نے عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا میں سورۃ ص میں سجدہ کیا کروں؟ تو انہوں نے آیت «ومن ذريته داود وسليمان‏» تلاوت کی «فبهداهم اقتده‏» تک نیز انہوں نے کہا کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے تھے جنہیں انبیاء علیہم السلام کی اقتداء کا حکم تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں مجاہد رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ کیا جائے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن کی آیات پڑھیں جن میں داؤد اور سلیمان علیہما السلام کا ذکر ہے، پھر آیت فبہداہم اقتدہ تک پہنچے۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے تھے جنہیں انبیاء کی پیروی کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع سورۃ ص کا سجدہ اور انبیاء کی پیروی ہے۔ متن میں یہ بات واضح ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سجدے کے مسئلے کو انبیاء کے راستے کی پیروی سے جوڑا۔ اس لیے سجدہ تلاوت کو قرآن اور نبی کے عمل کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورۃ ص کے سجدے کا تعلق انبیاء کی پیروی سے بیان ہوا ہے۔
  • مسئلہ پوچھنے پر دلیل قرآن سے دی گئی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کو سابقہ انبیاء کی ہدایت کی پیروی کا حکم تھا۔
  • دینی سوال کا جواب علم اور دلیل کے ساتھ دینا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں